New Arrivals are Here-Fast Shipping from Our USA Warehouse

Akhri Panj Para (Tajweedi)
آخری پنج پارہ تجویدی Authors > Abu Saad Ubaid Ur Rehman Mohsin Al-Yousafi \n \n \n تجارت کے

$90.00

Quantity
Description

\n \n \n تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔  کتاب ” محاضرات معیشت وتجارت” محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےدوحہ قطر میں مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے۔

مولانا جاوید اقبال سیالکوٹی کی کتاب ’’مسلمان کون؟‘‘ اسلام کے ارکانِ خمسہ (توحید و رسالت کی شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج) کی اہمیت اور ان کے ترک و انکار کے شرعی حکم کو قرآن و سنت اور ائمہ کے اقوال کی روشنی میں بیان کرتی ہے۔ یہ مختصر مگر علمی کتاب مسلمانوں کو دینی فرائض کی طرف متوجہ کرنے اور ایمان و عمل کی درست سمجھ فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر رہنمائی ہے۔

فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصل پوری کی کتاب جنت سے محروم کرنے والے چالیس اعمال ایک مختصر مگر نہایت مؤثر اصلاحی تصنیف ہے، جس میں ان گناہوں اور اعمال کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کو جنت سے دور کر دیتے ہیں۔ مصنف نے روزمرہ زندگی میں ہونے والی عام کوتاہیوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے قاری کو اصلاحِ نفس اور آخرت کی کامیابی کی طرف متوجہ کیا ہے۔

نبي كريم صلى الله عليہ وسلم کی سیرت طیبہ پر ایک جامع اور بہترین کتاب ہے جسے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام منعقد سیرت نگارى کے عالمی مقابلہ میں اول نمبر پر آنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ کتاب سیرت طیبہ کے ابتدائی ماخذات سے استفاذہ کرتے ہوئے ایک ایسا علمی اور تاریخی پس منظر کھینچتی ہے کہ جس میں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہوسلم کو ایک داعی حق، سپاہ گر،منصف، مقرر، شہری، جرنیل، سپاہی، الفقروفخری حکمران، شوہراور دیگر کئی بشری کیفیات میں دیکھتے ہیں۔ یہ کتاب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے، محسن انسانیت کی زندگی جس نے ہمیشہ اپنے آپ کو انا بشر مثلکم کہا اور اس کتاب کو پڑھنے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیش آنے والے ان واقعات کا پتا چلتا ہے جو کہ مافوق الفطرت انداز بیاں سے لکھی گئی کتابوں میں نہیں ملتے۔ الرحيق المختوم کو حياة الرسول صلى الله عليه وسلم کے موتمر العالم السلامی (مسلم ورلڈ لیگ) کے تحت ١٩٧٩ میں منعقد ہونے والےعالمی مقابلہ میں پہلا انعام ملا۔ یہ کتاب اپنی سلاست و روانی کے ساتھ ساتھ تاریخی پس منظر کو سیرت طیبہ کے ساتھ پرو کر بیان کرنے کے حوالے سے بہترین علمی شاہکار کا درجہ رکھتی ہےیہ کتاب عربوں کی طویل تاریخ کوبہترین، مختصر اور پراثر پیراے میں بیان کرتے ہوے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت سرزمین عرب کے حالات کا جس علمی انداز میں نقشہ کھینچتی ہے وہاں حالی کا مسدس چراغ دکھاتا معلوم ہوتا ہے۔ ابتدائیا عربی زبان میں لکھی گئی اس کتابکا دنیا کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ﷺ کی حیات اقدس کامطالعہ کیا جائے او راپنے کرداروعمل کو اس کے مطابق ڈھالا جائے کتاب کے علمی مقام ومرتبہ کے لیے اتنا کافی ہے کہ سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں یہ اول انعام کی مستحق قرار پائی ہے امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے دلوں میں اسوۂ رسول ﷺ کو عملاًاپنانے کا جذبہ پیدا ہوگا

اللہ نے ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان سے بخشش اور عظیم اجر (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔ (الفتح: 29) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زمین پر موسلا دھار بارش کی طرح ہے۔ ان میں سے کچھ زرخیز مٹی تھی جو بارش کے پانی کو جذب کرتی تھی اور پودوں اور گھاس کو وافر مقدار میں اگاتی تھی۔ (اور) اس کا ایک اور حصہ سخت تھا اور اس نے بارش کے پانی کو روک رکھا تھا اور اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور انہوں نے اسے پینے کے لیے استعمال کیا (اپنے جانوروں کو اس سے پانی پلایا) اور زمین کو کھیتی کے لیے سیراب کیا۔ (اور) اس کا ایک حصہ بنجر تھا جو نہ پانی روک سکتا تھا اور نہ نباتات اگاتا تھا (پھر اس زمین نے کوئی فائدہ نہیں دیا)۔ پہلی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین (اسلام) کو سمجھا اور اس (علم سے) فائدہ حاصل کیا جو اللہ (عزوجل) نے مجھ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے نازل کیا ہے اور سیکھتا ہے اور پھر دوسروں کو سکھاتا ہے۔ (آخری مثال اس شخص کی ہے) جس نے اس کی پرواہ نہیں کی اور اللہ کی طرف سے میری طرف سے نازل کردہ ہدایت کو نہیں مانا (وہ اس بنجر زمین کی طرح ہے)۔‘‘ (المکرمہ)

Akhri Panj Para (Tajweedi) <br>آخری پنج پارہ تجویدی Authors > Abu Saad Ubaid Ur Rehman Mohsin Al-Yousafi \n \n \n تجارت کے

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.

View More

  • Product more
  • Collection:

You may also like

recommand products

50$ Store Credit
Your message